Social Media

Friendship

دوستی باہمی پیار، اعتماد اور افہام و تفہیم پر مبنی افراد کے درمیان ایک پیارا رشتہ ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو محض واقفیت سے آگے بڑھتا ہے، کیونکہ دوست مشترکہ مفادات، تجربات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ سچی دوستی ایمانداری، ہمدردی اور وفاداری کی بنیاد پر استوار ہوتی ہے۔ دوست ایک دوسرے کی کامیابیوں کا جشن منانے، مشکل وقت میں مدد کرنے اور ضرورت پڑنے پر سننے کے لیے موجود ہیں۔ دوستی کی خوبصورتی ایک دوسرے کی خامیوں اور خامیوں کو قبول کرنے میں مضمر ہے، اپنے ہونے کے لیے ایک محفوظ اور غیر فیصلہ کن جگہ کو فروغ دینا۔ دوستی مختلف ترتیبات میں بن سکتی ہے، جیسے کہ اسکول، کام، سماجی تقریبات، یا مشترکہ مشاغل اور دلچسپیوں کے ذریعے۔ کچھ دوستیاں زندگی بھر کی ہوتی ہیں، وقت کی کسوٹی پر کھڑی ہوتی ہیں، جب کہ کچھ زندگی کی تبدیلیوں اور حالات کے لحاظ سے آتی اور جاتی ہیں۔ صحت مند اور مضبوط دوستی کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں فریقوں سے کوشش اور رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی ضروریات کے لیے حاضر ہونا، سمجھنا اور جوابدہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اچھے دوست حدود کا احترام کرتے ہیں اور اپنے تعلقات کی انفرادیت کی تعریف کرتے ہیں۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں، ٹکنالوجی نے جڑے رہنا آسان بنا دیا ہے، یہاں تک کہ بڑے فاصلے پر بھی۔ سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارم دوستوں کو جسمانی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپ ڈیٹس، یادیں بانٹنے اور باقاعدگی سے رابطے میں رہنے کے قابل بناتے ہیں۔ مجموعی طور پر، دوستی ہماری زندگیوں کو تقویت بخشتی ہے، جذباتی مدد، خوشی اور تعلق کا احساس فراہم کرتی ہے۔ یہ انسانی تجربے کا ایک بنیادی پہلو ہے جو خوشی اور تکمیل لاتا ہے، زندگی کے سفر کو مزید خوشگوار بناتا ہے جب ان لوگوں کے ساتھ اشتراک کیا جاتا ہے جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں۔

Friendship is a cherished bond between individuals based on mutual affection, trust, and understanding. It is a relationship that goes beyond mere acquaintanceship, as friends share common interests, experiences, and support each other through various aspects of life.

True friendships are built on a foundation of honesty, empathy, and loyalty. Friends are there to celebrate each other’s successes, lend a helping hand during difficult times, and provide a listening ear whenever needed. The beauty of friendship lies in the acceptance of one another’s flaws and imperfections, fostering a safe and non-judgemental space to be oneself.

Friendships can be formed in various settings, such as school, work, social events, or through shared hobbies and interests. Some friendships are lifelong, standing the test of time, while others may come and go depending on life’s changes and circumstances.

Maintaining a healthy and strong friendship requires effort and communication from both parties. It’s crucial to be present, understanding, and responsive to each other’s needs. Good friends respect boundaries and appreciate the uniqueness of their relationship.

In today’s fast-paced world, technology has made it easier to stay connected, even across great distances. Social media and messaging platforms enable friends to share updates, memories, and stay in touch regularly, transcending physical barriers.

Overall, friendship enriches our lives, providing emotional support, happiness, and a sense of belonging. It’s a fundamental aspect of the human experience that brings joy and fulfilment, making life’s journey more enjoyable when shared with those we hold dear as friends.

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

سن مرے دل کی ذرا آواز دوست
اے مرے محسن مرے ہم راز دوست

ہے مختصر سی اپنی دوستی کی داستاں
اک دوست کو چاہا ہے زندگی کی طرح

سچی دوستی ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتی
ملے کوئی سچا دوست تو اسکی قدر کرنا

دل سے خیالِ دوست بھلایا نہ جائے گا
سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

دوست کو دولت کی نگاہ سے مت دیکھو
وفا کرنے والے دوست اکثر غریب ہوتے ہیں

دُشمنوں کی جفا کا خوف نہیں
دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

میری دوستی کی حد اس پہ ختم ہے
زمیں پہ رہتا ہے مگر چاند جیسا ہے

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

وہ اک شخص سمجھتا تھا مجھے
پھر و بھی سمجهدار ہو گیا

چاہنے والوں کی کمی نہیں ہوتی زندگی میں 
پر ہر کسی پر دل لٹایا نہیں کرتے

اب تو وہ ہوگا جو دل فرمائے گا
بعد میں جو ہوگا دیکھا جائے گا..

حیثیت مشتِ خاک محض اوقات میں ادنیٰ ہیں
مگر خواہشِ غیر پہ کِھل اُٹھے، وہ گُل نہیں ہم..

میں سوچو کے کس گمان میں تھا
میں کسی دوسرے جہان میں تھا..

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

ﻋـــــــﺸـــــــــﻖ ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﻧــــــــــــــــــﮕﺎﮦ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ

ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﮬﻮ ﯾﺎ ﻣــــــــــﺤـــــــــــــــــﻞ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ

دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیں

کیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیں

لاکھ تیرے لہجے میں مٹھاس سہی

زہر لگتا ہے تیرا اوروں سے بات کرنا

احساس محبّت مِیں ‏ ہم اتنا ہی کہتے ہیں

‏تیرے بغیر بھی ہم‏ تیرے ہی رہتے ہیں..!

جس روز حق سے پہلو میں بیٹھو گے آ کے تُم

اُس روز ہم بھی چاند کا یوں دل جلائیں گے

تنقید نہ تکرار بڑی دیر سے چپ ہیں

حیرت ہے میرے یار بڑی دیر سے چپ ہیں

گونگوں کو تکلم کے مواقع ہیں میسر

ہم ماہر گفتار بڑی دیر سے چپ ہیں

دل کی ضد ہو تم ورنہ

ان آنکھوں نے بہت لوگ دیکھے ہیں

نہ جانے کیا چھپا ہوا تھا اس کی نگاہ الفت میں

نہ چاہتے ہوئے بھی اُس سے دل لگی کر بیٹھے

ہم دوستی میں درختوں کی طرح ہیں صاحب

جہاں لگ جائے وہاں مدتوں کھڑے رہتے ہیں

سیکھ جاؤ وقت پر کسی کی چاہت کی قدر کرنا

کہیں کوئی تھک نا جائے تمہیں احساس دلاتے دلاتے

وہ میرے لئے اتنے قابل احترام ہے!

میں اس کو تم کہنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہوں

اظہارِ محبت کروں یا اس کی طبیعت پوچھوں

اے دل کوئی تو بہانہ بتا اس سے بات کرنے کا

اس نے تعریف ہی کچھ اس انداز میں کی

اپنی ہی تصویر کو سو بار دیکھا میں نے

محبت کیا ہے

اپنے قیمتی وقت کے کچھ لمحے کسی کو دینا کسی کی سن لینا

میں کیا کہوں کے اس کا ساتھ کیسا ہے

وہ ایک شخص پوری کائنات جیسا ہے

آپ سے پاکیزگی کا تعلق ہے

آپ تو میری تہجد کی دعا ہیں

ہو تعلق تو روح سے ہو

دل تو اکثر بھر جاتے ہیں

گلے ملتے ہیں جب آپس میں دو بچھڑے ہوئے ساتھی

عدم ہم بے سہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا💔

جون یاروں کے یار تھے ہم تو

ہم نے ہر چیز _____مختصر کر کے ❤

دل پہ تفصیل سے لکھ لیا تمھیں 

ایک تیری نظر جو میرا ساتھ دے جاناں

میں کسی اور کو دیکھنا بھی گناہ سمجھو

مجھے نہ کسی کا دل,نہ کسی کی جان چاہیے

دل کا حال جو سمجھ سکے,وہ انسان چاہیے

اس شخص کو چنا کریں جو آپ کو عزت دے

عزت محبت سے کہیں زیادہ خاص ہوتی ہے

دنیا کی سب سے بڑی کمزوری شرافت ہے ,

جس کا فائدہ اکثر گھٹیا لوگ اٹھاتے ہیں

زندگی کو بدلنے میں وقت نہیں لگتا

لیکن وقت کو بدلنے میں پوری زندگی لگ جاتی ہے۔

کہیں ملیں تم کو بھوری رنگت کی گہری آنکھیں، مجھے بتانا

میں جانتا ہوں کہ ایسی آنکھیں، بہت اذیت شناس ہوں گی

میں اس سے لاتعلقی کی انتہا پر ہوں

پر دل ہے کہ رابطے کو مرا جا رہا ہے۔

میں اسلئے بھی کھڑا تھا جھکا کے سر اپنا

تو شرمسار نہ ہوبات سے مکرتے ہوئے

بچهڑنے والے کا بهرم رکهنا تها مرشد

سو ہم نے خود کو بےوفا لکها

ادھُورا لگتا ہے وہ دِن

جس دِن تُم سے بات نہیں ہوتی

انا کے موڑ پر بچھڑے تو ہمسفر نہ ملے

ہم ایک ہی شہر میں رہ کر عمر بھر نہ ملے

محبت کو اتنا تو پاک ہونا چاہیے

کہ

مانگتے وقت خدا سے شرمندگی محسوس نہ ہو